Sunday, June 16, 2013

اٹھارہ کروڑ تھپڑ .... منظور ہے نگہت شیخ صاحبہ؟

0 comments
پنجاب اسمبلی کی شیرنی جیسی خاتون ممبر نے ایک بس ہوسٹیس جسکا نام اقراء نواز بتایا جا رہا ہے ....... کو تھپڑ رسید کر دیا ہے........ جرم ......  اس ہوسٹیس نے ان محترمہ کو پانی پلانے میں تاخیر کر دی ....بڑی غلطی ہے بھائی.... اسکی سزا تو ملنی چاہیے ...... ہر غلطی کی سزا ملنی چاہیے ...

یہ اقراء نواز کے ساتھ ہوا تو شاید نواز شریف اور شہباز شریف کچھ بھی نہ کرے .... لیکن اگر یہ مریم نواز کے ساتھ ہو جائے تو نہ جانے کیسی قیامت آجائیگی ......

میں محترمہ ایم پی اے نگہت شیخ صاحبہ کو یہ  بتانا چاہتا ہوں کہ عوام کو صاف پانی پلانے میں دیرکرنے، جعلی دواؤں کی تیاری اور خرید و فروخت روکنے میں ناکامی، بارش کے پانی کا نکاس نہ کرنے ، وقت پر بجلی مہیا نہ کرنے، مہنگائی میں ہوشربااضافہ کرنے، غریبوں پر ٹیکس لگانے اور امیروں کو چوٹ دینے اور ملک کو تباہی کی طرف دھکیلنے جیسی غلطیوں کو جمع کا جائے تو عوام کی طرف سےآپ کو اور آپ کے درندہ صفت، بے حس اور بے غیرت سیاستدان ساتھیوں کو کم از کم اٹھارہ کروڑ تھپڑ پڑنے چاہیے .... 

منظور ہے .... ؟؟؟

کیونکہ غلطی کی سزا تو بہر حال ملنی ہی چاہیے ...... 

بلوچستان میں خون خرابہ

0 comments



آج بلوچستان میں ایک بار پھر بہت زیادہ خون خرابہ ہوا۔ ایک یونیورسٹی کی متعدد طالبات ایک بزدلانہ حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، انکے ساتھ ساتھ راہگیروں اور بولان ہسپتال میں مریضوں کی تیمارداری کرنے والے بہت سارے افراد بھی گولیوں اور بموں کی زد میں آکر جان بحق اور زخمی ہوگئے۔ کوئٹہ شہر کے ڈپٹی کمشنر بھی دہشتگردی کے اس حملے کا شکار بنے،جبکہ میڈیا کے مطابق زخمیوں کی عیادت کرنے کے لئے ہسپتال پہنچنے والے صوبہ بلوچستان کے چیف سیکریٹری، جناب فتح محمد بابر یعقوب اور پولیس کے انسپکٹر جنرل اس اندوہناک واقعے میں بال بال بچے۔ 



آج ہی مشہور سیاحتی مقام زیارت میں دہشتگردوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے آخری ایام کی یاد گار، جو کہ زیارت ریذیڈنسی یا پھر قائد یا جناح ریزیڈنسی کے نام سے مشہور تھا، کو کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی کے مسلح کارکنوں نے راکٹوں اور بموں کے حملے میں شدید نقصان پہنچایا۔ عمارت کو آگ لگ گئی ، لیکن پورے علاقے میں فائر بریگیڈ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے کا عمل جلدی شروع نہ ہوسکا اور عمارت کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہو گیا۔ 



کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج سے چھ دہائی پہلے جب قائد اعظم اس عمارت میں علاج معالجے کے سلسلے میں مقیم تھے تو انہیں اچانک طبعیت بگڑنے کی صورت میں کراچی منتقل کرنے کے لئے صیح حالت میں ایمبولینس موجود نہیں تھا۔ جس ایمبولینس میں ان کو منتقل کیا جارہا تھا وہ راستے میں خراب ہوگیا اور یوں بانی پاکستان کو اپنے آخری لمحات ایک خراب ایمبولینس کے اندر گزارنے پڑے۔ المیہ دیکھیں کہ آج جب انکے قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری ایام کی یاد گار شعلوں کی نذر کر دی گئی تھی تواسے بچانے کے لئے فائربریگیڈکی کوئی ایک بھی گاڑی موجود نہیں تھی۔



عمارتیں اور علامتیں قومی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی اصل شناخت ان کے نظریات سے ہوتی ہے ، نہ کہ کسی خاص عمارت یا علامت سے۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمن جنگی جہازوں نے لندن شہر کو تباہ کر کے رکھ دیا تھا۔ اسی طرح امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرا کر تمام عمارتوں اور ان کے مکینوں کو نیست و نابود کردیا، مگر وقت نے دیکھا کہ جاپان نے صرف ان شہروں کو دوبارہ تعمیر کیا بلکہ پہلے سے بہتر بنا کر دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ 



کیا ہمارے حکمران زیارت میں قائد اعظم کے آخری ایام کی یادگار عمارت کو بھی دوبارہ ایسا ہی بنا دیں گے؟ بنظر غائر تو ایسا نہیں لگتا۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان چھ دہائیوں میں ملک کے نامور سیاستدانوں ، جرنیلوں اور سول سروس کے ہزاروں افسروں اور ان کے خاندانوں کی مسلسل خدمت کرنے اور خوبصورتی کی داد سمیٹنے کے باوجود زیارت کی قسمت نہیں بدلی ہے اور نہ ہی بدلے گا۔ اس خوبصورت اور دلکش علاقے کی محرومیوں کا سفراب بھی مسلسل جاری ہے۔ اور شائدنااہل حکمرانوں ، جرنیلوں اور بابووں کے نرغے میں قید مملکت پاکستان کی بدقسمتی کا سفر بھی اسی طرح جاری رہیگا۔ 



خون و کشت کا یہ سلسلہ صوبہ بلوچستان میں کافی عرصے سے جاری ہے۔ گزشتہ سال اور موجودہ سال کے اوائل میں کوئٹہ شہر میں ہزارہ شیعہ برادری کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا جسکی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، سینکڑوں خاندان مختلف طریقوں سے متاثر ہوئے، جبکہ پورے ملک میں بے چینی اور غصے کی لہر دوڑ گئی اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ اس سارے صورتحال میں پاکستان پوری دنیا کی نظروں میں ایک کمزور ملک کی حیثیت سے ابھرا، جسکے سیاسی اور معاشی نقصانات اپنی جگہ موجود ہیں۔ 



بلوچستان میں بیک وقت دو داخلی محاذوں پر لڑی جانے والی اس لڑائی نے پورے ملک میں ایک تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ ایک طرف مسلح قوم پرست ہیں جو علیحدگی کا نعرہ لگاکر قتل و غارت میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف فرقہ پرست تنظیمیں ہیں جو بموں اور گولیوں سے اپنی بات منوانے اور اپنی برتری جتانے کی سعی لاحاصل میں جتے ہوئے ہیں۔ ایف سی اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی ماوراء عدالت قتل اور اغوا جیسے جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات مسلسل لگائے جا رہے ہیں، اور اسی سلسلے میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔

انتظامی نااہلی اپنی جگہ، لیکن یہ مقام غور و فکر ہے کہ بلوچستان میں بعض طبقے اس حد تک ریاست سے بظاہر بدظن اور دلیر ہو چکے ہیں کہ اب انہیں ملک کے بانی کی یاد گار کو تباہ و برباد کرنے میں بھی کوئی عار یا دقت محسوس نہیں ہوتی۔ اس روئے کے محرکات پر غور کئے بغیر اور لوگوں کو درپیش سیاسی و معاشی مسائل کا حل پیش کیے بغیر بلوچستان میں پھیلے بدامنی اور بے چینی کا خاتمہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ 

Wednesday, May 29, 2013

سائنسی علوم اور ہمارے علماء

0 comments
سائینس کو رد کرنا آسان ہے، اور اس عمل پر کسی طرح کا قدغن بھی نہیں ہے۔بلکہ سائینسی علمااس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کے خیالات اور نظریات کو سچ کی کسوٹی پر رکھ کر جانچا جائے اور دلائل کی بنیاد پر انہیں رد کیا جائے۔ ایسا بہت بار ہوا ہے کہ ماضی میں رائج سائنسی نظریات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوتے مکمل طور پر بدل گئے ہیں، بلکہ بعض نظریات اب غلط بھی تصور کئے جاتے ہیں۔

 ہمارے مذہبی طبقے عموما جدید سائنسی علوم حاصل کرنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ سائنسی نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی بغیر دلائل اور تحقیق کے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک مضحکہ خیز صورتحال سے دوچار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے اور ان کے وعظ و نصیحت کی افادیت پر بھی غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 اسلئے ہمارے علما کو چاہیے کہ ہٹ دھرمی ختم کر کے سائینسی علوم حاصل کرے اور حکمت اور تحقیق کی روشنی میں دلائل اور استدلال کے ذریعے نظریات کو غلط یا صیح ثابت کرنے کی سعی کرے۔ یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ سائینسی نظریات کو غلط ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں، لیکن دلائل کی بنیاد پر گفتگو کرنے سے ان کی ساکھ بہتر ہو گی اور ان کو توجہ سے سنا جائیگا۔

اگر وہ سائنسی نظریات کو غلط ثابت کر سکے توپوری دنیا انکی عزت کرے گی، اور اگر نہ بھی کر سکے تو کم از کم کوئی ان پر توہینِ سائنس کا فتوی نہیں لگائیگا، اور نہ ہی پر تشدد انداز میں ان کی مخالفت کی جائیگی۔

انگریزی بولنے کا مقابلہ

0 comments